MOJ E SUKHAN

الجھنوں میں کیسے اطمینان دل پیدا کریں

غزل

الجھنوں میں کیسے اطمینان دل پیدا کریں
بجلیوں میں رہ کے تنکوں کا بھروسہ کیا کریں

ضبط آنسو جب کئے تو اچھلا چہرے پر لہو
غم کی موجیں روکنے سے راستہ پیدا کریں

کہتے ہیں قصہ زمانے سے یہی تشویش ہے
سی لئے ہیں لب مگر ان آنسوؤں کو کیا کریں

ہم بھی بندے ہیں ہمیں بھی مقدرت اتنی تو ہے
وہ خدا بن جائے جس کے سامنے سجدا کریں

طاقت دیدار ظاہر اور آنکھوں کو یہ شوق
بس تمہیں دیکھا کریں دیکھا کریں دیکھا کریں

چاہتے یہ ہیں کہ راہ زندگی ہموار ہو
سوچتے یہ ہیں کہ دنیا کو تہہ و بالا کریں

بے وفا سورج ڈھلا جاتا ہے چشم شوق سے
اور کب تک اعتبار وعدۂ فردا کریں

مصلحت کا یہ تقاضا ہے کہ ہنسنا چاہئے
بزم ہستی میں صباؔ کب تک غم دنیا کریں

صبا اکبر آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم