MOJ E SUKHAN

کثرت جلوہ کو آئینۂ وحدت سمجھو

غزل

کثرت جلوہ کو آئینۂ وحدت سمجھو
جس کی صورت نظر آئے وہی صورت سمجھو

غم کو غم اور نہ مصیبت کو مصیبت سمجھو
جو در دوست سے مل جائے غنیمت سمجھو

جھک کے جو سینکڑوں فتنوں کو جگا سکتی ہیں
وہ نگاہیں اگر اٹھیں تو قیامت سمجھو

نہیں ہوتے ہیں ریاکاری کے سجدے مجھ سے
میں اگر سر نہ جھکاؤں تو عبادت سمجھو

رفتہ رفتہ مری خودداری سے واقف ہو گے
ابھی کچھ دن مرے انداز محبت سمجھو

جلوہ دیکھو گے کہاں دل کے علاوہ اپنا
مرے ٹوٹے ہوئے آئینے کی قسمت سمجھو

کم نہیں دور اسیری میں سہارا یہ بھی
قید میں یاد نشیمن کو غنیمت سمجھو

خوب سمجھایا ہے یہ کاتب قسمت نے ہمیں
جو میسر ہو جہاں میں اسے قسمت سمجھو

ہم جفاؤں کو بھی انداز عنایت سمجھیں
اور تم شکر ستم کو بھی شکایت سمجھو

میری آنکھوں میں ابھی اشک بہت باقی ہیں
تم جو محفل میں چراغوں کی ضرورت سمجھو

اے صباؔ کیوں ہو در غیر پہ توہین طلب
اپنے ہی در کو ہمیشہ در دولت سمجھو

صبا اکبر آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم