MOJ E SUKHAN

اک دن خود کو اپنے پاس بٹھایا ہم نے

غزل

اک دن خود کو اپنے پاس بٹھایا ہم نے
پہلے یار بنایا پھر سمجھایا ہم نے

خود بھی آخر کار انہی وعدوں سے بہلے
جن سے ساری دنیا کو بہلایا ہم نے

بھیڑ نے یوں ہی رہبر مان لیا ہے ورنہ
اپنے علاوہ کس کو گھر پہنچایا ہم نے

موت نے ساری رات ہماری نبض ٹٹولی
ایسا مرنے کا ماحول بنایا ہم نے

گھر سے نکلے چوک گئے پھر پارک میں بیٹھے
تنہائی کو جگہ جگہ بکھرایا ہم نے

ان لمحوں میں کس کہ شرکت کیسی شرکت
اسے بلا کر اپنا کام بڑھایا ہم نے

دنیا کے کچے رنگوں کا رونا رویا
پھر دنیا پر اپنا رنگ جمایا ہم نے

جب شارقؔ پہچان گئے منزل کی حقیقت
پھر رستہ کو رستہ بھر الجھایا ہم نے

شارق کیفی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم