MOJ E SUKHAN

وہ دن بھی تھے کہ ان آنکھوں میں اتنی حیرت تھی

غزل

وہ دن بھی تھے کہ ان آنکھوں میں اتنی حیرت تھی
تمام بازی گروں کو مری ضرورت تھی

وہ بات سوچ کے میں جس کو مدتوں جیتا
بچھڑتے وقت بتانے کی کیا ضرورت تھی

پتا نہیں یہ تمنائے قرب کب جاگی
مجھے تو صرف اسے سوچنے کی عادت تھی

خموشیوں نے پریشاں کیا تو ہوگا مگر
پکارنے کی یہی صرف ایک صورت تھی

گئے بھی جان سے اور کوئی مطمئن نہ ہوا
کہ پھر دفاع نہ کرنے کی ہم پہ تہمت تھی

کہیں پہ چوک رہے ہیں یہ آئنے شاید
نہیں تو عکس میں اب تک مری شباہت تھی

شارق کیفی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم