MOJ E SUKHAN

جو ہے کتاب دل کے حسیں اقتباس میں

غزل

جو ہے کتاب دل کے حسیں اقتباس میں
ہے تذکرہ اسی کا مری التماس میں

آزاد ہے جو باغ وطن اور پر بہار
شامل ہے میرا خون بھی اس کی اساس میں

اس کا کوئی نصیب ہے جس کو خوشی میں بھی
اک ابتلا ہے کلفت و امید و یاس میں

کچھ ان میں آشنائے حقیقت بلا کے ہیں
آتے ہیں جو نظر ہمیں سادہ لباس میں

اس خاص تر اثر کا ہو انعامؔ کیا بیاں
جو ہے نگاہ اہل دل و حق شناس میں

انعام تھانوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم