MOJ E SUKHAN

بڑھے ذرا جو یہ موج وحشت تو ہم بھی کوئی کمال کر لیں

غزل

بڑھے ذرا جو یہ موج وحشت تو ہم بھی کوئی کمال کر لیں
کسی کو کوئی جواب دے دیں کسی سے کوئی سوال کر لیں

اس ایک سونے سے گھر کے اے دل رکھا ہی کیا ہے اب اس گلی میں
کہ جائیں کرنے کو زخم تازہ اور اپنی آنکھوں کو لال کر لیں

ملا جو بن کر وہ اجنبی سا کہا ہے دل نے یہ آہ بھر کر
بھلا دیں ساری گزشتہ باتیں گئے دنوں کا ملال کر لیں

یہی ہے آنکھوں کا بس تقاضا سجیں دریچے پھر اس گلی کے
تماشا ہونے کو جائیں پھر ہم پھر اپنا ویسا ہی حال کر لیں

ہوائے ہجراں رکے تو کر لیں مداوا اپنی اداسیوں کا
گلے لگا لیں پھر اس کو خاورؔ پھر ایک رشتہ بحال کر لیں

اقبال خاور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم