MOJ E SUKHAN

اس خرابے میں کہیں ہیں ہم بھی

غزل

اس خرابے میں کہیں ہیں ہم بھی
بے خبر دیکھ یہیں ہیں ہم بھی

تیرے ہونے سے تماشا سارا
تو نہیں ہے تو نہیں ہیں ہم بھی

حرف لکھے ہیں لہو سے اپنے
ہو بشارت کہ کہیں ہیں ہم بھی

وہ بھی آشفتہ سری کی زد پر
اک طبیعت کے نہیں ہیں ہم بھی

اقبال خاور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم