MOJ E SUKHAN

درون ذات کا منظر زمانے پر نہیں کھولا

غزل

درون ذات کا منظر زمانے پر نہیں کھولا
بسر اک رات کرنی ہے ابھی بستر نہیں کھولا

مسافر ہوں میں بھوکا ہوں صدائیں دیں بہت لیکن
دریچے کھول کر دیکھے کسی نے گھر نہیں کھولا

میں تجھ سے مانگتا ہوں اس لیے مولا نڈر ہو کر
کہ جب مانگا مرے اعمال کا دفتر نہیں کھولا

یہاں پر ہو کا عالم ہے یہاں آسیب بستے ہیں
مقفل ہے کئی برسوں سے دل کا در نہیں کھولا

تماشا بن گیا آزاد ہو کر سب کی نظروں میں
قفس کھولا مگر صیاد تو نے پر نہیں کھولا

پس دیوار تیری یاد میں روئے بہت لیکن
سر بازار ہم نے یار اپنا سر نہیں کھولا

اقبال طارق

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم