غزل
بعد مدت کے ہجر سا دینا
میرے ہاتھوں میں آئنہ دینا
اچھا لگتا ہے اس زمانے کو
بعد مرنے کے بت بنا دینا
جی یہ توہین ہے چراغوں کی
رات باقی ہو اور بجھا دینا
کینوس پر بہار اترے گی
آپ کچھ تتلیاں بنا دینا
مشورہ ہے کہ ہم جئے جائیں
کتنا آساں ہے مشورہ دینا
زندگی نجمؔ خواب جیسی ہے
لطف آنے لگے جگا دینا
جی اے نجم