MOJ E SUKHAN

حدیث زندگی سنتے رہے ہیں

غزل

حدیث زندگی سنتے رہے ہیں
بڑی مدت سے سر دھنتے رہے ہیں

ہوئے ہیں پاش اک ضرب فنا سے
جو سپنے عمر بھر بنتے رہے ہیں

بھرا پھولوں سے تھا گلشن کا دامن
مگر ہم خار ہی چنتے رہے ہیں

رباب وقت نے چھیڑا ترانہ
جسے ہم ڈوب کر سنتے رہے ہیں

سر رہ ہر قدم بکھرے تھے کانٹے
جنہیں پلکوں سے ہم چنتے رہے ہیں

عروس شاعری تیرے لیے ہم
سخن کے پھول ہی چنتے رہے ہیں

سنا فیضؔ حزیں تیرا فسانہ
جو اہل دل تھے سر دھنتے رہے ہیں

فیض تبسم تونسوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم