MOJ E SUKHAN

یہ عمل موجۂ انفاس کا دھوکا ہی نہ ہو

غزل

یہ عمل موجۂ انفاس کا دھوکا ہی نہ ہو
زندگی عشرت احساس کا دھوکا ہی نہ ہو

جیسے اک خواب ہوا عہد گزشتہ کا ثبات
دم آئندہ مری آس کا دھوکا ہی نہ ہو

یہ نگیں بھی نہ ہو بس معجزۂ تار نظر
یہ ہنر شیشہ و الماس کا دھوکا ہی نہ ہو

مرے تخئیل کے ہی عکس نہ ہوں سبزہ و گل
دہر اوہام کا وسواس کا دھوکا ہی نہ ہو

ہر یقیں میں جو نکلتا ہے گماں کا پہلو
یہ مری عقل کے خناس کا دھوکا ہی نہ ہو

رحمان حفیظ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم