MOJ E SUKHAN

عشق میں تیرے جنگل بھی گھر لگتے ہیں

غزل

عشق میں تیرے جنگل بھی گھر لگتے ہیں
کانٹے اور ببول صنوبر لگتے ہیں

بھور بھئے آکاش سے سورج جاگے تو
چاند ستارے کتنے بے گھر لگتے ہیں

چہرے کو چہرے سے ڈھانپے پھرتے لوگ
بولتے ہیں تو لہجے بنجر لگتے ہیں

خوشیوں کے بازار میں غم بھی بکتے ہیں
اور غم کے بازار تو اکثر لگتے ہیں

خون کے رشتے مول بکے بازاروں میں
ماں جائے بھی اب تو پتھر لگتے ہیں

ذکیہ غزل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم