MOJ E SUKHAN

اپنی آنکھوں کو عقیدت سے لگا کے رکھ لی

غزل

اپنی آنکھوں کو عقیدت سے لگا کے رکھ لی
تیری دہلیز کی مٹی تھی اٹھا کے رکھ لی

تجھ کو تکتے ہی رہے رات بہت دیر تلک
چاند کے طاق میں تصویر سجا کے رکھ لی

دل سی نوخیز کلی تیری محبت کے لیے
سینچ کے جذبوں سے پہلو میں کھلا کے رکھ لی

اس نئے سال کے سواگت کے لیے پہلے سے
ہم نے پوشاک اداسی کی سلا کے رکھ لی

دم الجھتا تھا شب تیرہ کا تاریکی سے
اس لیے چاند کی قندیل جلا کے رکھ لی

سدرہ سحر عمران

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم