MOJ E SUKHAN

تو حرف آخری مرا قصہ تمام ہے

غزل

تو حرف آخری مرا قصہ تمام ہے
تیرے بغیر زندگی کرنا حرام ہے

کرنے ہیں تیرے جسم پہ اک بار دستخط
تاکہ خدا سے کہہ سکوں تو میرے نام ہے

ہوتا ہے گفتگو میں بہت بار تذکرہ
یعنی ہوا چراغ کا تکیہ کلام ہے

پہلے پہل ملی تھی ہمیں شدتوں کی دھوپ
اب یوں ہے رابطے کی سرائے میں شام ہے

آخر میں بس نشاں ہیں سحرؔ کچھ سوالیہ
پھر اس کے بعد داستاں کا اختتام ہے

سدرہ سحر عمران

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم