MOJ E SUKHAN

میں تو کاغذ ہوں مجھے آگ پکڑ جائے گی

غزل

میں تو کاغذ ہوں مجھے آگ پکڑ جائے گی
پر تری بات ہواؤں سے بگڑ جائے گی

خشک پیڑوں کی طرح زرد محبت ہے مری
اس پہ سبزہ نہیں آیا تو یہ جھڑ جائے گی

میں کہ مٹی کی عمارت ہوں کسی روز یوں ہی
دل یہ ڈھ جائے گا ہر اینٹ اکھڑ جائے گی

اتنا برفاب خموشی کا جزیرہ ہے یہاں
چار دن ٹھہروں تو آواز اکڑ جائے گی

تیرے کہنے پہ محبت کی بنفشی چادر
اوڑھ تو لی ہے مگر جلد ادھڑ جائے گی

سدرہ سحر عمران

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم