MOJ E SUKHAN

زنجیروں سے بندھا ہوا ہر ایک یہودی تکتا تھا

غزل

زنجیروں سے بندھا ہوا ہر ایک یہودی تکتا تھا
کوسوں دور سے بابل کا روشن مینار چمکتا تھا

غار کی رنگیں تصویروں کو اور زمانے دیکھیں گے
ہم نے بس وہ نقش کیا جو اس لمحے بن سکتا تھا

اک شفاف دریچے میں کچھ رنگ برنگے منظر تھے
گل دانوں میں پھول فروزاں آتش دان بھڑکتا تھا

میں جس مسند پر تھا وہ تو اک گوشے میں رکھی تھی
اور دریچہ چپکے سے منظر کی سمت سرکتا تھا

بارش چھپر تیز ہوائیں مصری جیسے سندھی گیت
یار سرائے کے چولھے پر میٹھا قہوہ پکتا تھا

جنگل گاؤں پرندے انساں قصے میں سب لاکھوں تھے
سیارے کا سورج لیکن تنہائی میں یکتا تھا

احمد جہانگیر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم