MOJ E SUKHAN

وجد کرتی اک دعا کچے مکانوں سے اٹھی

غزل

وجد کرتی اک دعا کچے مکانوں سے اٹھی
روشنی تسبیح کے رنگین دانوں سے اٹھی

سرخ آفت سے مزین تختۂ گل کی سحر
شب کو نارنجی قیامت شمع دانوں سے اٹھی

سبزہ و گل سب اچانک نیلگوں ہونے لگے
یک بہ یک جب زرد ماٹی آسمانوں سے اٹھی

لاد لانے کے لئے سرسبز انگوروں کا رس
حکم آتے ہی مگس چھتے کے خانوں سے اٹھی

میں سخن رب احد کے فضل سے کرنے لگا
استعاروں کی چمک میرے خزانوں سے اٹھی

گھنٹیاں ناقوس تاشے سب گلاب صبح ہیں
پر سحر خیزی کی خوشبو بس اذانوں سے اٹھی

احمد جہانگیر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم