MOJ E SUKHAN

دامن میں آنسوؤں کا ذخیرہ نہ کر ابھی

غزل

دامن میں آنسوؤں کا ذخیرہ نہ کر ابھی
یہ صبر کا مقام ہے گریہ نہ کر ابھی

جس کی سخاوتوں کی زمانے میں دھوم ہے
وہ ہاتھ سو گیا ہے تقاضا نہ کر ابھی

نظریں جلا کے دیکھ مناظر کی آگ میں
اسرار کائنات سے پردا نہ کر ابھی

یہ خامشی کا زہر نسوں میں اتر نہ جائے
آواز کی شکست گوارا نہ کر ابھی

دنیا پہ اپنے علم کی پرچھائیاں نہ ڈال
اے روشنی فروش اندھیرا نہ کر ابھی

ساقی فاروقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم