MOJ E SUKHAN

دن اک کے بعد ایک گزرتے ہوئے بھی دیکھ

غزل

دن اک کے بعد ایک گزرتے ہوئے بھی دیکھ
اک دن تو اپنے آپ کو مرتے ہوئے بھی دیکھ

ہر وقت کھلتے پھول کی جانب تکا نہ کر
مرجھا کے پتیوں کو بکھرتے ہوئے بھی دیکھ

ہاں دیکھ برف گرتی ہوئی بال بال پر
تپتے ہوئے خیال ٹھٹھرتے ہوئے بھی دیکھ

اپنوں میں رہ کے کس لیے سہما ہوا ہے تو
آ مجھ کو دشمنوں سے نہ ڈرتے ہوئے بھی دیکھ

پیوند بادلوں کے لگے دیکھ جا بہ جا
بگلوں کو آسمان کترتے ہوئے بھی دیکھ

حیران مت ہو تیرتی مچھلی کو دیکھ کر
پانی میں روشنی کو اترتے ہوئے بھی دیکھ

اس کو خبر نہیں ہے ابھی اپنے حسن کی
آئینہ دے کے بنتے سنورتے ہوئے بھی دیکھ

دیکھا نہ ہوگا تو نے مگر انتظار میں
چلتے ہوئے سمے کو ٹھہرتے ہوئے بھی دیکھ

تعریف سن کے دوست سے علویؔ تو خوش نہ ہو
اس کو تری برائیاں کرتے ہوئے بھی دیکھ

محمد علوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم