MOJ E SUKHAN

کچھ تو اس دل کو سزا دی جائے

غزل

کچھ تو اس دل کو سزا دی جائے
اس کی تصویر ہٹا دی جائے

ڈھونڈنے میں بھی مزہ آتا ہے
کوئی شے رکھ کے بھلا دی جائے

نام لکھ لکھ کے ترا کاغذ پر
روشنائی بھی گرا دی جائے

ناؤ کاغذ کی بنا کر اس کو
بہتے پانی میں بہا دی جائے

رات کو چپکے سے اک اک گھر کی
کیوں نہ زنجیر لگا دی جائے

نیند میں چونک پڑے گا کوئی
آؤ اس در پہ صدا دی جائے

آخری سانس مہک جائے گی
اس کے دامن کی ہوا دی جائے

سب کے سب یاد چلے آتے ہیں
آج کس کس کو دعا دی جائے

علویؔ ہوٹل میں ٹھہر سکتا ہے
کیوں اسے گھر میں جگہ دی جائے

محمد علوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم