MOJ E SUKHAN

متاع آبرو لے کر عطا سے کچھ نہیں ہوتا

غزل

متاع آبرو لے کر عطا سے کچھ نہیں ہوتا
بہا ہو خون دل تو خوں بہا سے کچھ نہیں ہوتا

مزاج دل بگڑ جائے تو پھر اے مہرباں سنیے
جفا سے کچھ نہیں ہوتا وفا سے کچھ نہیں ہوتا

سر مقتل تمہارے کارنامے سب نے دیکھے ہیں
سر منبر بہت آہ و بکا سے کچھ نہیں ہوتا

زباں کھل جائے تو سب بندشیں بے سود ہوتی ہیں
قدم اٹھ جائیں تو زنجیر پا سے کچھ نہیں ہوتا

محمد رئیس علوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم