MOJ E SUKHAN

عشق کی راہوں پہ چلنا ہے تو رسوائی نہ دیکھ

غزل

عشق کی راہوں پہ چلنا ہے تو رسوائی نہ دیکھ
تجھ کو پانی میں اترنا ہے تو گہرائی نہ دیکھ

دیکھنا یہ ہے پس پردہ ملوث کون ہے
پاؤں میں کس شخص نے زنجیر پہنائی نہ دیکھ

پڑھ سکے تو پڑھ حکایات غم وارفتگاں
دھوپ میں جھلسے ہوئے چہروں پہ رعنائی نہ دیکھ

خار زاروں سے گزر جا تو بلا خوف و خطر
اے مسافر ہر جگہ رسم شناسائی نہ دیکھ

تجھ کو منزل کی طلب ہے تو قدم آگے بڑھا
اس سفر میں ہم سفر کوئی مرے بھائی نہ دیکھ

سامنے آ گفتگو کا حوصلہ رکھتا ہوں میں
میری صورت پر نہ جا زخم شناسائی نہ دیکھ

خود نہ بن اخترؔ تماشا اس تماشا گاہ میں
دیکھ اپنے آپ کو ظرف تماشائی نہ دیکھ

اختر سعیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم