MOJ E SUKHAN

ہوائیں جب گھنٹیاں بجائیں تو لوٹ آنا

غزل

ہوائیں جب گھنٹیاں بجائیں تو لوٹ آنا
کسی کی آنکھیں دئے جلائیں تو لوٹ آنا

بہت دنوں تک یہ موسم گل نہیں رہے گا
جو شاخ جاں پر گلاب آئیں تو لوٹ آنا

ہوا درختوں سے جب گلے مل کے رو رہی ہو
پرند لمبے سفر پہ جائیں تو لوٹ آنا

جو ضد پہ آ جائے دل تو اس کی بھی مان لینا
پرانی یادیں بہت ستائیں تو لوٹ آنا

فراق کی آگ چاٹ جاتی ہے جسم و جاں کو
جو سن سکو وقت کی صدائیں تو لوٹ آنا

عشرت آفرین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم