MOJ E SUKHAN

یہ نازک سی مرے اندر کی لڑکی

غزل

یہ نازک سی مرے اندر کی لڑکی
عجب جذبے عجب تیور کی لڑکی

یوں ہی زخمی نہیں ہیں ہاتھ میرے
تراشی میں نے اک پتھر کی لڑکی

کھڑی ہے فکر کے آذر کدے میں
بریدہ دست پھر آذر کی لڑکی

انا کھوئی تو کڑھ کر مر گئی وہ
بڑی حساس تھی اندر کی لڑکی

سزاوار ہنر مجھ کو نہ ٹھہرا
یہ فن میرا نہ میں آذر کی لڑکی

بکھر کر شیشہ شیشہ ریزہ ریزہ
سمٹ کر پھول سے پیکر کی لڑکی

حویلی کے مکیں تو چاہتے تھے
کہ گھر ہی میں رہے یہ گھر کی لڑکی

عشرت آفرین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم