MOJ E SUKHAN

روشنی ہی روشنی ہے شہر میں

غزل

روشنی ہی روشنی ہے شہر میں
پھر بھی گویا تیرگی ہے شہر میں

روز و شب کے شور و غل کے باوجود
اک طرح کی خامشی ہے شہر میں

ریل کی پٹری پہ سو جاتے ہیں لوگ
کتنی آساں خود کشی ہے شہر میں

جو عمارت ہے وہ سر سے پاؤں تک
اشتہاروں سے سجی ہے شہر میں

گاؤں چھوڑے ہو چکی مدت مگر
خاورؔ اب تک اجنبی ہے شہر میں

بدیع الزماں خاور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم