MOJ E SUKHAN

دوست کچھ اور بھی ہیں تیرے علاوہ مرے دوست

غزل

دوست کچھ اور بھی ہیں تیرے علاوہ مرے دوست
کئی صحرا مرے ہمدم کئی دریا مرے دوست

تو بھی ہو میں بھی ہوں اک جگہ پہ اور وقت بھی ہو
اتنی گنجائشیں رکھتی نہیں دنیا مرے دوست!

تیری آنکھوں پہ مرا خواب سفر ختم ہوا
جیسے ساحل پہ اتر جائے سفینہ مرے دوست!

زیست بے معنی وہی بے سر و سامانی وہی
پھر بھی جب تک ہے تری دھوپ کا سایا مرے دوست!

اب تو لگتا ہے جدائی کا سبب کچھ بھی نہ تھا
آدمی بھول بھی سکتا ہے نہ رستا مرے دوست!

راہ تکتے ہیں کہیں دور کئی سست چراغ
اور ہوا تیز ہوئی جاتی ہے اچھا مرے دوست!

ادریس بابر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم