MOJ E SUKHAN

کون سی شاخ کا پتہ تھا ہرا بھول گیا

غزل

کون سی شاخ کا پتہ تھا ہرا بھول گیا
پیڑ سے ٹوٹ کے میں اپنا پتہ بھول گیا

میں کوئی وعدہ فراموش نہیں ہوں پھر بھی
مجھ پہ الزام ہے میں اپنا کہا بھول گیا

اپنے بچوں کے کھلونے تو اسے یاد رہے
گھر میں بیمار پڑی ماں کی دوا بھول گیا

کر تو دیں میں نے چراغوں کی قطاریں روشن
ہے زمانے کی مگر تیز ہوا بھول گیا

خوف دوزخ سے ڈراتا رہا واعظ مجھ کو
اور خود اپنے گناہوں کہ سزا بھول گیا

تجھ سے کچھ کام تھا لیکن ترے گھر کے آگے
اب کھڑا سوچ رہا ہوں کی میں کیا بھول گیا

بے خودی حد سے جو گزری تو میں اک روز نفسؔ
گھر سے کیا نکلا کہ پھر گھر پتہ کا بھول گیا

نفس انبالوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم