MOJ E SUKHAN

یوں نہیں تھا کہ تیرگی کم تھی

غزل

یوں نہیں تھا کہ تیرگی کم تھی
دھوپ سے اپنی دوستی کم تھی

خواہشوں کے ہجوم تھے لیکن
اپنے حصہ میں زندگی کم تھی

تم نہ آئے تو بس ہوا اتنا
کل چراغوں میں روشنی کم تھی

ہاں وہ ہنس کر نہیں ملا پھر بھی
اس کی باتوں میں بے رخی کم تھی

غم اسے بھی نہ تھا بچھڑنے کا
میری آنکھوں میں بھی نمی کم تھی

کچھ تغافل مزاج تھا ساقی
اور کچھ اپنی پیاس بھی کم تھی

اس کا لہجہ تو خوب تھا لیکن
اس کے شعروں میں شاعری کم تھی

کیوں مجھے دے گیا وہ سناٹے
کیا مرے گھر میں خامشی کم تھی

نفس انبالوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم