MOJ E SUKHAN

سب غم کہیں جسے کہ تمنا کہیں جسے

غزل

سب غم کہیں جسے کہ تمنا کہیں جسے
وہ اضطراب شوق ہے ہم کیا کہیں جسے

ہے جہد منفرد سبب کاروبار دہر
اک اضطراب قطرہ ہے دریا کہیں جسے

نعمت کا اعتبار ہے حسن قبول سے
عشرت بھی ایک غم ہے گوارا کہیں جسے

ملتا نہیں ہے اہل جنوں کا کوئی سراغ
بس ایک نقش پا ہے کہ صحرا کہیں جسے

پہلے حیات شوق تھی اللہ رے انقلاب
اب اعتبار غم ہے تمنا کہیں جسے

ہے میرے کائنات تصور کا اک فریب
وہ جلوۂ خیال کہ دنیا کہیں جسے

کچھ کم نگاہیاں ہیں تجلی کی آڑ سے
ایسی بھی اک نگاہ تماشا کہیں جسے

تنہائی خیال سے تابشؔ یہ حال ہے
ایسا کوئی نہیں کہ ہم اپنا کہیں جسے

تابش دہلوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم