MOJ E SUKHAN

کوئی بڑھ کر ستم مجھ پر ستم ایجاد کیا کرتا

غزل

کوئی بڑھ کر ستم مجھ پر ستم ایجاد کیا کرتا
بسایا ہی نہیں جس کو اسے برباد کیا کرتا

سکھایا بولنا اس کو زبان بے زبانی سے
اگر لب کھول لیتی میں وہ پھر ارشاد کیا کرتا

کہاں قد ناپتا میرا بھلا یہ شعر کم قامت
سو میرا شعر بھی پا کر سیاسی داد کیا کرتا

نکل وہ خود نہیں پاتا شکنج ذات سے اپنی
جو اپنی قید میں خود ہو مجھے آزاد کیا کرتا

جہاں بازو رسن بستہ جہاں قدغن ہو لفظوں پر
کوئی زنجیر کیا ہلتی کوئی فریاد کیا کرتا

اگر فطرت ہو سیمابی طبیعت بھی ہو سیلانی
در و دیوار کیا رکھتا وہ گھر آباد کیا کرتا

رہائی ظلم سے اس کے میسر اور ممکن تھی
مگر میں نے یہی سوچا وہ میرے بعد کیا کرتا

عابدہ کرامت

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم