MOJ E SUKHAN

بدن کجلا گیا تو دل کی تابانی سے نکلوں گا

غزل

بدن کجلا گیا تو دل کی تابانی سے نکلوں گا
میں سورج بن کے اک دن اپنی پیشانی سے نکلوں گا

نظر آ جاؤں گا میں آنسوؤں میں جب بھی روؤگے
مجھے مٹی کیا تم نے تو میں پانی سے نکلوں گا

تم آنکھوں سے مجھے جاں کے سفر کی مت اجازت دو
اگر اترا لہو میں پھر نہ آسانی سے نکلوں گا

میں ایسا خوبصورت رنگ ہوں دیوار کا اپنی
اگر نکلا تو گھر والوں کی نادانی سے نکلوں گا

ضمیر وقت میں پیوست ہوں میں پھانس کی صورت
زمانہ کیا سمجھتا ہے کہ آسانی سے نکلوں گا

یہی اک شے ہے جو تنہا کبھی ہونے نہیں دیتی
ظفرؔ مر جاؤں گا جس دن پریشانی سے نکلوں گا

ظفر گورکھ پوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم