MOJ E SUKHAN

پکارے جا رہے ہو اجنبی سے چاہتے کیا ہو

غزل

پکارے جا رہے ہو اجنبی سے چاہتے کیا ہو
خود اپنے شور میں گم آدمی سے چاہتے کیا ہو

یہ آنکھوں میں جو کچھ حیرت ہے کیا وہ بھی تمہیں دے دیں
بنا کر بت ہمیں اب خامشی سے چاہتے کیا ہو

نہ اطمینان سے بیٹھو نہ گہری نیند سو پاؤ
میاں اس مختصر سی زندگی سے چاہتے کیا ہو

اسے ٹھہرا سکو اتنی بھی تو وسعت نہیں گھر میں
یہ سب کچھ جان کر آوارگی سے چاہتے کیا ہو

کناروں پر تمہارے واسطے موتی بہا لائے
گھروندے بھی نہیں توڑے ندی سے چاہتے کیا ہو

چراغ شام تنہائی بھی روشن رکھ نہیں پائے
اب اور آگے ہوا کی دوستی سے چاہتے کیا ہو

ظفر گورکھ پوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم