MOJ E SUKHAN

اپنے ہزار رنگ بدلنے لگی ہے شام

غزل

اپنے ہزار رنگ بدلنے لگی ہے شام
شعر و سخن سے آج بہلنے لگی ہے شام

پھر اپنے رنگ و روپ بدلنے لگی ہے شام
سوز غم فراق میں جلنے لگی ہے شام

تنہائیوں کا شہر اب اس کا نصیب ہے
جام شب فراق میں ڈھلنے لگی ہے شام

آ جاؤ انتظار کے لمحوں کو توڑ کر
ورنہ خیال خام میں پلنے لگی ہے شام

اہل چمن سے کہہ دو بہاروں کے دن گئے
اب بوئے روئے گل کو کچلنے لگی ہے شام

سورج کا خون رنگ شفق اور روئے شب
فکر و نظر کی گود میں پلنے لگی ہے شام

اک چشم انتظار سے ملتا ہے یہ جواب
مہر و وفا کا رنگ نگلنے لگی ہے شام

بزم طرب میں دیکھیے دیپک کی تان پر
روئے افق پہ شعلہ اگلنے لگی ہے شام

بسمل اعظمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم