MOJ E SUKHAN

جذبۂ شوق کم نہیں ہوتا

غزل

جذبۂ شوق کم نہیں ہوتا
ان کے جانے کا غم نہیں ہوتا

سامنا ہو کے ہو نہ پاس ادب
مجھ سے ایسا ستم نہیں ہوتا

دل نے لاکھوں سہے ہیں رنج و الم
پھر بھی پابند غم نہیں ہوتا

کیسے روتی ہیں روز و شب آنکھیں
ان کا دامن بھی نم نہیں ہوتا

گردش روزگار کے ہاتھوں
رنج و غم کچھ بھی کم نہیں ہوتا

ہیں تو خوش پوش وضع دار بہت
ہر کوئی محترم نہیں ہوتا

کام لیتے ہیں وہ بھی حکمت سے
جن میں جاہ و حشم نہیں ہوتا

بسمل اعظمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم