غزل
جذبۂ شوق کم نہیں ہوتا
ان کے جانے کا غم نہیں ہوتا
سامنا ہو کے ہو نہ پاس ادب
مجھ سے ایسا ستم نہیں ہوتا
دل نے لاکھوں سہے ہیں رنج و الم
پھر بھی پابند غم نہیں ہوتا
کیسے روتی ہیں روز و شب آنکھیں
ان کا دامن بھی نم نہیں ہوتا
گردش روزگار کے ہاتھوں
رنج و غم کچھ بھی کم نہیں ہوتا
ہیں تو خوش پوش وضع دار بہت
ہر کوئی محترم نہیں ہوتا
کام لیتے ہیں وہ بھی حکمت سے
جن میں جاہ و حشم نہیں ہوتا
بسمل اعظمی