MOJ E SUKHAN

تبسم لب خنداں کے ساتھ ساتھ چلو

غزل

تبسم لب خنداں کے ساتھ ساتھ چلو
سرور شوخئ پنہاں کے ساتھ ساتھ چلو

جنوں میں خوئے غزالاں کے ساتھ ساتھ چلو
شعار حشر بداماں کے ساتھ ساتھ چلو

اٹھائے بار الم دوش پر زمانے کا
ہجوم گردش دوراں کے ساتھ ساتھ چلو

تھکن بنے نہ کبھی اب سے پاؤں کی زنجیر
دلوں میں عزم فراواں کے ساتھ ساتھ چلو

بنا لو اپنی اداؤں کا سب کو دیوانہ
وگرنہ عمر گریزاں کے ساتھ ساتھ چلو

چھپائے سینوں میں احساس زندگی کی چبھن
تصور غم دوراں کے ساتھ ساتھ چلو

بنا کے چھوڑ دو کندن خراب حالوں کو
حکایت رخ جاناں کے ساتھ ساتھ چلو

اٹھائے تم پہ زمانہ نہ انگلیاں بسملؔ
نگاہ شورش پنہاں کے ساتھ ساتھ چلو

بسمل اعظمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم