MOJ E SUKHAN

منسلک ہو کر تمہارے نام سے

غزل

منسلک ہو کر تمہارے نام سے
مطمئن ہوں گردش ایام سے

بن گئے میرے لیے الزام سے
جو پیام آئے تمہارے نام سے

ہے تصور میں ترے گیسو کی چھاؤں
نیند آئی ہے بڑے آرام سے

جن کی تحریروں سے پہچانا گیا
کچھ خطوط ایسے بھی تھے گمنام سے

آج تنہا آپ ہی رسوا نہیں
ہو گئے ہیں ہم بھی کچھ بدنام سے

تیرے آنے کی خبر کے باوجود
کس قدر بے تابیاں ہیں شام سے

کچھ کسر مرنے میں باقی ہی نہ تھی
جی اٹھا بسملؔ ترے پیغام سے

بسمل آغائی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم