MOJ E SUKHAN

مری زندگی ہے تنہا تمہیں کچھ اثر تو ہوتا

غزل

مری زندگی ہے تنہا تمہیں کچھ اثر تو ہوتا
کوئی دوست تم سا ہوتا کوئی ہم سفر تو ہوتا

یہ تمام سائے اپنے چلوں کب تلک سمیٹے
کوئی ہم نشیں تو ہوتا کوئی چارہ گر تو ہوتا

کبھی کچھ گمان ہوتا مجھے منزلوں کا اپنی
جسے اپنا ہم نے سمجھا وہی راہبر تو ہوتا

میں کہاں سے لاؤں قسمت جو بنوں تمہارے قابل
کہ تمہارے گھر کے آگے مرا کوئی گھر تو ہوتا

ہے عجیب کشمکش میں یہ صباؔ کی بندگی بھی
کبھی ان کے در کے لائق کبھی میرا سر تو ہوتا

ببلس ھورہ صبا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم