MOJ E SUKHAN

یہ منتر بھی پرانے جام جم بھی

غزل

یہ منتر بھی پرانے جام جم بھی
بہت دیکھے ہیں یہ نقش قدم بھی

یہ ناٹک ہو رہے ہیں مدتوں سے
کہاں تک تالیاں پیٹیں گے ہم بھی

نئے سجدے نئی ہیں سجدہ گاہیں
رکھے جائیں گے بوسیدہ صنم بھی

ابھی پردے اٹھیں گے دیکھ لینا
نظر آئیں گے پس منظر میں ہم بھی

فیصل عظیم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم