MOJ E SUKHAN

اک آگ دیکھتا تھا اور جل رہا تھا میں

غزل

اک آگ دیکھتا تھا اور جل رہا تھا میں
وہ شام آئی مگر ہاتھ مل رہا تھا میں

یہ عمر کیسے گزاری بس اتنا یاد ہے اب
اداس رات کے صحرا پہ چل رہا تھا میں

بس ایک ضد تھی سو خود کو تباہ کرتا رہا
نصیب اس کے کہ پھر بھی سنبھل رہا تھا میں

بھری تھی اس نے رگ و پے میں برف کی ٹھنڈک
سو ایک برف کی صورت پگھل رہا تھا میں

خدا صفت تھا وہ لمحہ کہ جس میں گم ہو کر
زمیں سے آسماں کے دکھ بدل رہا تھا میں

میں ایک عہد تھا اک عہد کی علامت تھا
ہزار چہروں میں دن رات ڈھل رہا تھا میں

بس ایک ابر کے سائے نے آ لیا مجھ کو
عذاب اوڑھ کے گھر سے نکل رہا تھا میں

صابر وسیم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم