MOJ E SUKHAN

میرے دل وحشی کی بس اتنی حقیقت ہے

غزل

میرے دل وحشی کی بس اتنی حقیقت ہے
اک درد کا عالم ہے دنیائے محبت ہے

ہمدرد کسی کا اب دنیا میں نہیں کوئی
بدلا ہوا ہر اک کا انداز طبیعت ہے

روداد شہیداں ہے ایثار کا آئینہ
ایثار کا آئینہ شہکار حقیقت ہے

ہر غنچۂ نورستہ کہتا ہے یہ گلچیں سے
پھولوں پہ ستم ڈھانا انجام سے غفلت ہے

گل زار وطن کا کیوں ہر دم نہ خیال آئے
دل کے لئے کانٹا سا یہ وادئ غربت ہے

مجھ پر جو گزرتی ہے اوروں کی بلا جانے
سہنا ہے مجھے خود ہی یہ میری مصیبت ہے

آکر مری مژگاں پر جب اشک چمکتے ہیں
وہ کہتے ہیں موتی ہیں اللہ کی قدرت ہے

نغمات سعادتؔ میں اک گل کے تعلق سے

میرے دل وحشی کی بس اتنی حقیقت ہے
اک درد کا عالم ہے دنیائے محبت ہے

ہمدرد کسی کا اب دنیا میں نہیں کوئی
بدلا ہوا ہر اک کا انداز طبیعت ہے

روداد شہیداں ہے ایثار کا آئینہ
ایثار کا آئینہ شہکار حقیقت ہے

ہر غنچۂ نورستہ کہتا ہے یہ گلچیں سے
پھولوں پہ ستم ڈھانا انجام سے غفلت ہے

گل زار وطن کا کیوں ہر دم نہ خیال آئے
دل کے لئے کانٹا سا یہ وادئ غربت ہے

مجھ پر جو گزرتی ہے اوروں کی بلا جانے
سہنا ہے مجھے خود ہی یہ میری مصیبت ہے

آکر مری مژگاں پر جب اشک چمکتے ہیں
وہ کہتے ہیں موتی ہیں اللہ کی قدرت ہے

نغمات سعادتؔ میں اک گل کے تعلق سے
کلیوں کی نزاکت ہے شبنم کی لطافت ہے

سعادت نظیر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم