MOJ E SUKHAN

آئیں گے وہ کبھی مگر زیست کا اعتبار کیا

غزل

آئیں گے وہ کبھی مگر زیست کا اعتبار کیا
لائے گا رنگ دیکھیے عالم انتظار کیا

اپنی خوشی نہ آئے ہیں اپنی خوشی نہ جائیں گے
ان کے حریم ناز میں ہم کو ہے اختیار کیا

قید قفس میں ہم نفس گزری ہو جس کی زندگی
اس کو خزاں کی کیا خبر جانے گا وہ بہار کیا

ہے یہ حیات‌‌ جاوداں ہے یہی عیش سرمدی
ہیں جو وفا میں لذتیں جانے ستم شعار کیا

بازیٔ عشق ہار کر بیٹھے ہیں بے خبر سے ہم
سود ہے کیا زیاں ہے کیا نقد ہے کیا ادھار کیا

کشمکش حیات ہے رونق محفل حیات
دل کو ہمارے جیتے جی آئے گا پھر قرار کیا

موسم گل کے آتے ہی ہم تو اسیر ہو گئے
قید قفس ہے اے نظیرؔ حاصل نو بہار کیا

سعادت نظیر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم