MOJ E SUKHAN

ہاتھوں میں کشکول سوالی دھوپ نگر کے باسی

غزل

ہاتھوں میں کشکول سوالی دھوپ نگر کے باسی
سہہ لیتے ہیں سب کی گالی دھوپ نگر کے باسی

گلیوں میں جو بھٹک رہے ہیں اک روٹی کی خاطر
توڑیں گے وہ بھوک کی ڈالی دھوپ نگر کے باسی

جن کے پاس نہیں ہیں کپڑے تن کو ڈھانپنے خاطر
راتیں اوڑھتے ہیں وہ کالی دھوپ نگر کے باسی

اپنے خوابوں کی تعبیروں کو وہ پا لیتے ہیں
تیرے در کی چوم کے جالی دھوپ نگر کے باسی

اپنی دھن میں مست ہو رہتے اپنے گیت ہو گاتے
عشق میں کیسی راہ نکالی دھوپ نگر کے باسی

طاہرؔ وہ پوشیدہ رکھیں یا پھر ظاہر کر دیں
حالت ہے جو دیکھنے والی دھوپ نگر کے باسی

طاہر حنفی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم