غزل
ہاتھوں میں کشکول سوالی دھوپ نگر کے باسی
سہہ لیتے ہیں سب کی گالی دھوپ نگر کے باسی
گلیوں میں جو بھٹک رہے ہیں اک روٹی کی خاطر
توڑیں گے وہ بھوک کی ڈالی دھوپ نگر کے باسی
جن کے پاس نہیں ہیں کپڑے تن کو ڈھانپنے خاطر
راتیں اوڑھتے ہیں وہ کالی دھوپ نگر کے باسی
اپنے خوابوں کی تعبیروں کو وہ پا لیتے ہیں
تیرے در کی چوم کے جالی دھوپ نگر کے باسی
اپنی دھن میں مست ہو رہتے اپنے گیت ہو گاتے
عشق میں کیسی راہ نکالی دھوپ نگر کے باسی
طاہرؔ وہ پوشیدہ رکھیں یا پھر ظاہر کر دیں
حالت ہے جو دیکھنے والی دھوپ نگر کے باسی
طاہر حنفی