MOJ E SUKHAN

مری اداسی کا نقش پا ہے اداس لفظوں کا ایک جنگل

غزل

مری اداسی کا نقش پا ہے اداس لفظوں کا ایک جنگل
یہ غم کی راتوں کو جانتا ہے اداس لفظوں کا ایک جنگل

کسی کی آنکھوں میں دھیرے دھیرے اتر رہا ہے نمی کا بادل
قلم سے کس کے نکل رہا ہے اداس لفظوں کا ایک جنگل

شکستہ کاغذ پر آنسوؤں کا بنا ہوا ہے جو ایک تالاب
وہ میری آنکھوں سے بہہ رہا ہے اداس لفظوں کا ایک جنگل

اٹھائی کل رات ڈایری اور میں نے کر ڈالی نذر آتش
سو ساتھ اس کے ہی جل گیا ہے اداس لفظوں کا ایک جنگل

کہ دل میں جتنی اذیتیں تھیں قلم سے طاہرؔ انہیں لکھا ہے
غزل کی صورت میں ڈھل چکا ہے اداس لفظوں کا ایک جنگل

طاہر حنفی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم