MOJ E SUKHAN

جاتے جاتے یہ نشانی دے گیا

غزل

جاتے جاتے یہ نشانی دے گیا
وہ مری آنکھوں میں پانی دے گیا

جاگتے لمحوں کی چادر اوڑھ کر
کوئی خوابوں کو جوانی دے گیا

میرے ہاتھوں سے کھلونے چھین کر
مجھ کو زخموں کی کہانی دے گیا

حل نہ تھا مشکل کا کوئی اس کے پاس
صرف وعدے آسمانی دے گیا

خود سے شرمندہ مجھے ہونا پڑا
آئنہ جب میرا ثانی دے گیا

مجھ کو آذرؔ اک فریب آرزو
خوبصورت زندگانی دے گیا

کفیل آزر امروہوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم