MOJ E SUKHAN

خوشی بھی کس نے کہا وجہ غم نہیں ہوتی

غزل

خوشی بھی کس نے کہا وجہ غم نہیں ہوتی
بتا وہ شام جو شام الم نہیں ہوتی

ہم اس جگہ پہ کرائے کے گھر میں رہتے ہیں
ہماری رائے کبھی محترم نہیں ہوتی

ترے خیال کے آتے ہی لوٹنے سے لگا
ہر ایک چیز اداسی میں ضم نہیں ہوتی

جھکے ہوئے ہیں یہ سر تو کسی مصیبت میں
یہ اک فقیر کی گردن ہے خم نہیں ہوتی

جو تیرے ساتھ محبت تھی مر گئی ہے وہ
مگر جو تجھ سے عقیدت ہے کم نہیں ہوتی

میں اپنے دکھ میں برابر شریک ہوں لیکن
بس ایک مسئلہ ہے آنکھ نم نہیں ہوتی

بتا رہی ہیں پرندوں کی ہجرتیں ساحرؔ
کوئی تباہی کبھی ایک دم نہیں ہوتی

جہانزیب ساحر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم