غزل
چاند کے دیس میں ہے جی کا زیاں سوداگر
مول کیا دو گے غم دل کا وہاں سوداگر
اب وہ اگلے سے یہاں مصر کے بازار نہیں
آ گئے شہر تمنا میں کہاں سوداگر
دل کا ہر زخم ہے آئینہ تری صورت کا
تو نے دیکھی نہیں شیشوں کی دکاں سوداگر
ہر گلی چپ ہے کہ آسیب کا سایہ جیسے
شہر دل سے تری رخصت کا سماں سوداگر
سہل اتنا تو نہیں روپ نگر سے جانا
دور تک جائے گا آہوں کا دھواں سوداگر
نقد جاں آئے ہیں بازار میں لے کر جب سے
ہو گئی جنس وفا اور گراں سوداگر
دل کے ویران دریچوں پہ چراغاں ماہرؔ
کون دیتا ہے سر شام اذاں سوداگر
کیلاش ماہر