MOJ E SUKHAN

چاند کے دیس میں ہے جی کا زیاں سوداگر

غزل

چاند کے دیس میں ہے جی کا زیاں سوداگر
مول کیا دو گے غم دل کا وہاں سوداگر

اب وہ اگلے سے یہاں مصر کے بازار نہیں
آ گئے شہر تمنا میں کہاں سوداگر

دل کا ہر زخم ہے آئینہ تری صورت کا
تو نے دیکھی نہیں شیشوں کی دکاں سوداگر

ہر گلی چپ ہے کہ آسیب کا سایہ جیسے
شہر دل سے تری رخصت کا سماں سوداگر

سہل اتنا تو نہیں روپ نگر سے جانا
دور تک جائے گا آہوں کا دھواں سوداگر

نقد جاں آئے ہیں بازار میں لے کر جب سے
ہو گئی جنس وفا اور گراں سوداگر

دل کے ویران دریچوں پہ چراغاں ماہرؔ
کون دیتا ہے سر شام اذاں سوداگر

کیلاش ماہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم