MOJ E SUKHAN

زخم اپنا سا کام کر نہ جائے

غزل

زخم اپنا سا کام کر نہ جائے
پھر درد کی لے بکھر نہ جائے

جب اس کی نگاہ اس طرف ہے
کیوں میری نظر ادھر نہ جائے

ہے فصل جنوں کی آمد آمد
پیڑوں کا لباس اتر نہ جائے

اب مجھ سے نہ مل کہ زہر میرا
نس نس میں ترے اتر نہ جائے

مدت سے ملا نہیں ہوں اس سے
وہ میرے بغیر مر نہ جائے

ایسا تو نہیں کہ لوٹ جاؤں
اب آگے جو ہم سفر نہ جائے

نقاش کاظمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم