MOJ E SUKHAN

برملا وہ بھی اگر ہم کو دغا دیتا ہے

غزل

برملا وہ بھی اگر ہم کو دغا دیتا ہے
دل بیتاب اسے منہ پہ سنا دیتا ہے

وہ ستم کیش جب آزار نیا دیتا ہے
ہم سمجھتے ہیں کہ الفت کا صلہ دیتا ہے

عشق کی آگ تو ہے یوں بھی فنا کا پیغام
دل نا فہم عبث اس کو ہوا دیتا ہے

آزما لیتا ہوں احباب کو گاہے گاہے
ورنہ دینے کو تو ہر چیز خدا دیتا ہے

اور کچھ بھی ہو مگر اس سے تو انکار نہیں
عشق انسان کو انسان بنا دیتا ہے

میں جو پیتا ہوں بلا ناغہ شراب اے واعظ
کیوں تجھے چڑ ہے اگر مجھ کو خدا دیتا ہے

رہبری وہ ہے کہ آسودۂ منزل ہو کوئی
ورنہ رستہ تو ہر اک شخص بتا دیتا ہے

اب نہ کیوں ناز کروں اپنی وفا کیشی پر
اب تو خود دوست مجھے داد وفا دیتا ہے

ساقیٔ بزم کا یہ خاص کرم ہے ساحرؔ
دیکھتے ہی مجھے نظروں سے پلا دیتا ہے

ساحر سیالکوٹی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم