غزل
زمیں تک ہی نہیں چرچا ترا اب آسماں تک ہے
کبھی تو سوچ دل میں جور کی شہرت کہاں تک ہے
نہ جانے اس قدر سہمے ہوئے ہیں کیوں چمن والے
رسائی برق سوزاں کی تو میرے آشیاں تک ہے
مری تقلید سے رشک قمر کہتے ہیں سب تم کو
تمہارے حسن کا چرچا مرے حسن بیاں تک ہے
ادھر بے چارگی میں دل بھی دشمن ہو گیا اپنا
ادھر جور و جفا میں ان کا ساتھی آسماں تک ہے
تمہارا بار احساں بھی اٹھانے کے لئے نہیں باقی
تمہارے ناتواں کی ناتوانی اب یہاں تک ہے
جنوں کی کار فرمائی کو یہ ہرگز نہ سمجھے گی
رسائی عقل کی اندیشۂ سود و زیاں تک ہے
سنبھل جا اے دل ناداں ابھی تک کچھ نہیں بگڑا
ابھی تو راز الفت کا خموشی کی زباں تک ہے
کبھی ہے جان خطرے میں کبھی ایمان خطرے میں
بتوں کی مہربانی مجھ پہ ساحرؔ اب یہاں تک ہے
ساحر سیالکوٹی