MOJ E SUKHAN

زمیں تک ہی نہیں چرچا ترا اب آسماں تک ہے

غزل

زمیں تک ہی نہیں چرچا ترا اب آسماں تک ہے
کبھی تو سوچ دل میں جور کی شہرت کہاں تک ہے

نہ جانے اس قدر سہمے ہوئے ہیں کیوں چمن والے
رسائی برق سوزاں کی تو میرے آشیاں تک ہے

مری تقلید سے رشک قمر کہتے ہیں سب تم کو
تمہارے حسن کا چرچا مرے حسن بیاں تک ہے

ادھر بے چارگی میں دل بھی دشمن ہو گیا اپنا
ادھر جور و جفا میں ان کا ساتھی آسماں تک ہے

تمہارا بار احساں بھی اٹھانے کے لئے نہیں باقی
تمہارے ناتواں کی ناتوانی اب یہاں تک ہے

جنوں کی کار فرمائی کو یہ ہرگز نہ سمجھے گی
رسائی عقل کی اندیشۂ سود و زیاں تک ہے

سنبھل جا اے دل ناداں ابھی تک کچھ نہیں بگڑا
ابھی تو راز الفت کا خموشی کی زباں تک ہے

کبھی ہے جان خطرے میں کبھی ایمان خطرے میں
بتوں کی مہربانی مجھ پہ ساحرؔ اب یہاں تک ہے

ساحر سیالکوٹی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم