MOJ E SUKHAN

آخری کوئی پل نہیں ہوتا

غزل

آخری کوئی پل نہیں ہوتا
ہر کسی کا بدل نہیں ہوتا
گردشِ فکر اک معمہ ہے
جو کسی طور حل نہیں ہوتا
جن درختوں کا ہوتا ہے سایہ
اُن کی قسمت میں پھل نہیں ہوتا
فکرِامرُوز ہو جنہیں ہر پل
اُن کے ہاتھوں میں کل نہیں ہوتا
سحر انگیز حرف ہوتے نہیں
تُو! جو جانِ غزل نہیں ہوتا
ایک سا پانی ساری جھیلوں میں
ہر کسی میں کنول نہیں ہوتا
زندگی نے سکھایا ہے وشمہ
حرف کوئی اٹل نہیں ہوتا
وشمہ خان وشمہ
Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم